تحصیل کوٹ مومن · ضلع سرگودھا · پنجاب · پاکستان

رحیم پور

دریائے چناب کے بائیں کنارے ایک قصبہ — اُس دائرے کے اندر جسے پرانی روایات سات دروازوں سے بند بتاتی ہیں، اُسی سرزمین پر جہاں رانجھا پیدا ہوا۔

رحیم پور کا پرچم

رحیم پور کا پرچم

  • 0 km دریائے چناب تک
  • 0 km کوٹ مومن تک
  • 0 km سرگودھا شہر تک
  • 0 m سطحِ سمندر سے بلندی
  • 0 پرانے دائرے کے دروازے
  • 0 ڈاک کوڈ

فاصلے گاؤں سے بذریعہ سڑک ہیں۔ بلندی اور ڈاک کوڈ تخت ہزارہ بستی کے ریکارڈ شدہ اعداد ہیں۔

یہ جگہ

دریا سے دو کلومیٹر، اور باقی ہر جگہ سے بہت دور

رحیم پور، اُس کے نیچے ایسٹ رحیم پور اور کوٹ غازی کلاں — یہ سب تحصیل کوٹ مومن میں مڈھ رانجھا کے گرد جمع گاؤں کے جھرمٹ کا حصہ ہیں۔ چناب تقریباً دو کلومیٹر مشرق میں بہتا ہے۔ کوٹ مومن قریباً چالیس کلومیٹر، سرگودھا شہر اٹھاون اور اسلام آباد دو سو سینتالیس کلومیٹر دور ہے۔

اِس مقام پر چناب پر کوئی پل نہیں۔ یہی ایک غیر موجود پل پچھلے پچاس برس کی بہت سی باتیں سمجھا دیتا ہے — منڈی کوٹ مومن میں کیوں ہے، نوجوان سرگودھا، لاہور اور خلیج میں کیوں کام کرتے ہیں، اور کنارے کی پرانی بستی کیوں خالی ہوتی جا رہی ہے۔

زمین، دریا اور نقشہ
رحیم پور اور سات دروازوں کا نقشہ

ریکارڈ

مغل تخت سے آخری مردم شماری تک

  1. ۱۸۹۳ تا ۱۹۱۴

    ضلع شاہ پور، پھر سرگودھا

    انگریز حکومت ۱۸۹۳ء میں ضلع شاہ پور قائم کرتی ہے۔ ۲۲ فروری ۱۹۰۳ء کو نہری آبادکاری کے تحت سرگودھا بستا ہے اور ۱۹۱۴ء میں ضلعی صدر مقام وہاں منتقل ہو جاتا ہے، اگرچہ ضلعے کا نام شاہ پور ہی رہتا ہے۔

  2. ۱۹۴۷

    قیامِ پاکستان

    آزادی کے وقت ضلع شاہ پور پاکستان کے حصے میں آتا ہے۔ چناب کی اِس پٹی کے کڈھی گاؤں — اُن میں رحیم پور بھی — مغربی پنجاب کا حصہ بنتے ہیں۔

  3. ۱۹۶۰

    سندھ طاس معاہدہ

    ۱۹۶۰ء کے معاہدے کے تحت دریائے چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آتا ہے۔ دریا کنارے کھیتی کرنے والے گاؤں کے لیے قیامِ پاکستان کے بعد اِس سے اہم کوئی دستاویز نہیں۔

  4. ۱۹۶۰ تا ۱۹۶۱

    ضلع سرگودھا کا قیام

    ضلع سرگودھا قائم ہوتا ہے اور شاہ پور اُس کی ایک تحصیل رہ جاتی ہے۔ سرگودھا ڈویژن کا صدر مقام بھی بنتا ہے۔ آج بھی گاؤں اِسی انتظامی ڈھانچے میں شامل ہے۔

  5. ۲۰۰۳

    کوٹ مومن تحصیل بنی

    ۲۱ جون ۲۰۰۳ء کو کوٹ مومن کو ضلع سرگودھا کی تحصیل قرار دیا گیا۔ اب رحیم پور اور پورا تخت ہزارہ کا علاقہ براہِ راست کوٹ مومن کے تحت ہے۔

  6. ۲۰۱۷

    مردم شماری

    ۲۰۱۷ء کی مردم شماری کے مطابق تخت ہزارہ کی آبادی ۴۰۷۳ افراد، رقبہ ۲.۶۹ مربع کلومیٹر اور بلندی تقریباً ۲۰۰ میٹر ہے۔

  7. ۲۰۲۰

    ہجرت کا سلسلہ

    قومی اخبارات رپورٹ کرتے ہیں کہ کنارے کی اِس تاریخی بستی کی آبادی بیس برس میں تقریباً پندرہ ہزار سے گھٹ کر پانچ ہزار رہ گئی — لوگ روزگار کے لیے نقل مکانی کر گئے۔ یہاں چناب پر پل نہ ہونا بھی اِس تنہائی کی ایک وجہ ہے۔

  8. ۲۰۲۳

    آج کا ضلع

    ۲۰۲۳ء کے شمار کے مطابق ضلع سرگودھا کی آبادی ۴۳ لاکھ ۳۴ ہزار سے زائد اور رقبہ ۵۸۵۴ مربع کلومیٹر ہے، جس کا تقریباً ۶۳ فیصد دیہی ہے۔ رحیم پور اِسی دیہی اکثریت کا ایک گاؤں ہے۔

مکمل تاریخ

کیا آپ کے پاس اِس ریکارڈ کے لیے کچھ ہے؟

پرانی تصاویر، خاندانی نام، مسجد یا سکول کی تاریخیں، یا یہاں لکھی کسی بات کی تصحیح — بھیج دیں، آپ کے نام کے ساتھ شامل کر دی جائے گی۔

بھیجیں